تازہ ترین
بنیادی صفحہ / انٹرویوز / کھیل کے میدانوں میں جگمگاتاستارہ سجاول ریاض

کھیل کے میدانوں میں جگمگاتاستارہ سجاول ریاض

جس طرح کا کرکٹ ٹیلنٹ پاکستان میں ہے ایسا ٹیلنٹشائد ہی دنیا کے کسی ملک کے پاس ہو، کچی آبادیوں اور دور دراز علاقوں سے ستارے ابھر کر قومی سطح پر کھیل کے میدانوں میں جگمگاتے ہیں، ایسا ہی ایک ستارہ سجاول ریاض ایبٹ آباد کے علاقے ککمنگ کا ہے جو دور دراز علاقہ سے نہ صرف اسلام آباد بلکہ پورے پاکستان میں چمک رہا ہے،20سالہ سجاول ریاض نے تمام تر مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنا لوہا ہر سطح پر منوایا اور دوسروں کیلئے ایک مثال بن گئے۔
سجاول ریاض کا تعلق ایبٹ آباد کے علاقہ ککمنگ سے ہے جہاں کے لوگ کھیلوں سے خاص لگائو رکھتے ہیں۔ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سجاول ریاض نے بتایا کہ میں ایک تندور والے کا بیٹا ہوں اور ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ایک غریب شخص کا بیٹا قومی سطح پر اپنا لوہا منوائے، بائیں ہاتھ کے بلے باز سجاول نے بتایا کہ ساڑھے 6سال کا تھاتو ایک دن والد صاحب مجھے ڈائمنڈ کرکٹ گرائونڈ تفریح کیلئے لے گئے اور مجھے چند گیندیں کروائیں،وہ میرے والد صاحب اور وہاں موجود دیگر افراد اور کھلاڑی میرے کھیلنے کے سٹائل سے بہت متاثر ہوئے، اپنے سٹائل کی وجہ سے پورے سیکٹر کے لوگ میرے مداح بن گئے اور روز میری پریکٹس دیکھنے کیلئے گرائونڈ میں جمع ہوجاتے تھے اورمیرا اور میرے والد صاحب کا انتظار کرتے تھے تاکہ ہم کرکٹ کھیلیں اور وہ میرے کھیل سے محظوظ ہوسکیں، ان کا کہنا ہے کہ میرے والد نے گرائونڈ میں اعلان کررکھا تھا کہ جو بھی سجاول کو آئوٹ کرے گا اسے ایک کولڈ ڈرنک یا پانچ روکے انعام میں دیئے جائیں گے۔اسی گرائونڈ میں ایک روز سجاول ریاض کھیل رہے تھے کہ اسلام آباد کرکٹ ایسوسی ایشن کے عرفان منظور وہاں آگئے اور میرا کھیل دیکھنے لگ گئے، انہوں نے کھیل دیکھ کر بہت تعریف اور حوصلہ افزائی کی جس کے بعد میں نے کرکٹر بننے کا فیصلہ کرلیا، بعدازاں یہاں مارگلہ کرکٹ گرائونڈ بن گئی جس کا میں بھی حصہ بن گیا، ان کا کہنا ہے کہ جب میں گرائونڈ میں کرکٹ کھیلتا تو ارد گرد کے گھروں کے لوگ اپنی چھتوں پر جمع ہوجاتے اور میرا کرکٹ دیکھتے تھے،بعدازاں مارگلہ کرکٹ کلب کو خیر باد کہہ کر ڈائمنڈ کرکٹ کلب اسلام آباد جوائن کر لیا، ان کا کہناہے کہ جب میں ساڑھے آٹھ سال کا تھا تو راولپنڈی سٹیڈیم میں کرکٹ پروموٹ کلب کا کیمپ لگا جہاں میرے والد صاحب مجھے لے گئے، کیمپ میں پاکستان کے سابق وکٹ کیپر بلے باز تسلیم عارف، سابق ٹیسٹ کرکٹرز اقبال قاسم، عاقب جاوید، شاہد اسلم بھی موجود تھے جنہوں نے میری بیٹنگ دیکھ کر بہت تعریف کی اور حوصلہ افزائی کے کلمات کہے۔
اپنے کیریئر کے بارے گفتگو کرتے ہوئے سجاول ریاض کا کہنا تھا کہ انڈر16کرکٹ میں 2سال تک اسلام آباد کی بطور کپتان نمائندگی کی جبکہ 3سال تک انڈر19ریجن کرکٹ میں اپنی ٹیم کی کپتانی کی، انڈر 16اور انڈر19ریجن میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس کی بنیاد پر انڈر18اور19میں کرکٹ کھیلی۔ سجاول ریاض کا کہنا تھا کہ اتنی کرکٹ کھلانے میں ڈائمنڈ کرکٹ کلب اور مہید شیخ نے بڑا اہم کردار ادا کیا۔ 2015میں افغانستان کی انڈر19ٹیم پاکستان کے دورہ پر آئی جس میں سجاول نے 85رنز کی شاندار اننگز کھیلی جس پر انہیں مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیاگیا۔ بعدازاں انڈر19ٹیم کیساتھ کینیا گئے جہاں 5میچوں کی سیریز کھیلی،انہوں نے ایک میچ میں 72رنز کی شاندار پرفارمنس دی، سجاول نے ساری ریجن کرکٹ بطور کپتان کھیلی، انہوں نے اپنے کیریئر بارے مزید بتایا کہ انڈر17کی ٹیم کیساتھ دبئی گئے جہاں انگلینڈ کیساتھ سیریز میں شاندار پرفارمینس دکھائی، انڈر18ٹیم کے ساتھ دبئی کا دورہ بھی کیا۔ سجاول نے بتایا کہ آئی سی سی اکیڈمی کے ٹورنامنٹ میں پاکستان، سری لنکا، بھارت اور آسٹریلیا کی ٹیموں نے حصہ لیا جس میں پاکستان نے سجاول ریاض کی کپتانی میں ٹرافی جیتی، اس ٹورنامنٹ میں سجاول نے آسٹریلیا کیخلاف نہ صرف21گیندوں پر40رنز کی شاندار اننگز کھیلی بلکہ 3اوورز میں 6رنز کے عوض 3کھلاڑیوں کو بھی ٹھکانے لگایا، بہترین بیٹنگ کرنے پر سجاول کو مین آف دی ٹورنامنٹ کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔سجاول گریڈ 2فرسٹ کلاس کرکٹ زیڈ ٹی بی ایل کی طرف سے کھیلتے ہیں، 2017میں ملائشین ٹیم دورہ پاکستان پر آئی جس کا مقابلہ پاکستان کی ایمرجنگ ٹیم سے ہواجس میں سجاول نے 42رنز کی شاندار اننگز کھیل کر پاکستان کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ سجاول کا کہنا ہے کہ میرے والد ایک تندورچی ہیں جس کے باعث شروع میں بہت مالی مشکلات تھیں، کرکٹ کا سامان بہت مہنگا تھا لیکن میرے والد صاحب کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے اور میرے مداح مجھے کرکٹ کا سامان خرید کر دیتے تھے۔انہوں نے بتایاکہ پی سی بی کے اسلام آباد ریجن کے ہیڈ کوچ تیمور اعظم اور ٹرینر فرخ حیات نے میری صلاحیتوں کو نکھارا، اب تک کئی ایوارڈز جیت چکا ہوں۔ لاہور قلندر کے ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت رائزنگ سٹار ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست 59رنز بنانے پر مین آف دی میچ کا ایوارڈ جیتا، اسی طرح اسلام آباد یونائٹڈ کے ٹوئن سٹی ٹاکرا میں ٹورنامنٹ کے بہترین وکٹ کیپر کااعزاز حاصل کیا۔ ان کا کہن اہے کہ آئی سی اے نیشنل بینک چیمپئن شپ 2015اور2018میں ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ جیتا جبکہ 2018میں آئی سی اے ٹی ٹونٹی لیگ میں بہترین بلے باز کا ایوارڈ اپنے نام کیا۔ انہوں نے بتایاکہ قائد اعظم ٹرافی 2018میں اسلام آباد ریجن کے 25رکنی سکواڈ کا حصہ تھا تاہم کوئی میچ نہیں کھیلا، انہوں نے کہاکہ عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنا میرا خواب ہے، اپنی کوششوں، کوچ اور ٹرینر کی بہترین رہنمائی کی بدولت جلد اس خواب کو حاصل کر لوں گا۔

تعارف: عارف محمود خان

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*