تازہ ترین
بنیادی صفحہ / دیگر سپورٹس نیوز / پشاور،چوتھی انڈر23 گیمز رواں سال 32 اضلاع میں منعقد ہوگئی

پشاور،چوتھی انڈر23 گیمز رواں سال 32 اضلاع میں منعقد ہوگئی

پشاور ( سپورٹس لائف) سینئر وزیر برائے سپورٹس ‘کلچر ‘ٹورارم اور یوتھ افیئرز محد عاطف خان نے کہا ہے کہ چوتھی انڈر23 گیمز میں اس سال 104 تحصیلوں اور 32 اضلاع کے 22907 ریکارڈ کھلاڑی شرکت کررہے ہیں ‘ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ان کے ہمراہ ڈائریکٹرجنرل سپورٹس جنید خان بھی ہمراہ تھے انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کی شمولیت سے ان گیمز کا حجم ہر طرح سے بڑھ گیا ہے ‘ان میں پچیس تحصیل اور سات ڈسٹرکٹس قبائلی علاقوں کے ہیں جنہیں کے پی میں ضم کر دیا گیا ہے‘ہر ڈسپلن کے ونر کو ایک لاکھ روپے ‘سلور میڈلسٹ کو پچاس ہزار اور تیسری پوزیشن کو پچیس ہزار روپے کیش پرائز دیا جائے گا ‘انہوں نے بتایا کہ 2015 میں شروع کئے جانیوالے سپورٹس سکالر شپ کی رقوم میں بھی اضایہ کیا گیا جس کا مقصد ٹیلنٹیڈ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے ‘انڈر23 گیمز میں مرد وخواتین کھلاڑی شرکت کررہے ہیں ‘پہلے مرحلے میں فٹبال ‘والی بال ‘ایتھلیٹکس ‘بیڈمنٹن ‘کبڈی اور رسہ کشی کے مقابلے مرد کھلاڑیوں کے درمیان ہوں گے ‘تحصیل کی سطح پر گرلز ایونٹس نہیں ہونگے دوسرے مرحلے میں ڈسٹرکٹ کی سطح پر دس مردوں اور سات خواتین کی گیمز ہوں گی جس میں مجموعی طور پر 3616 مرد کھلاڑی شرکت کررہے ہیں جو ہاکی ‘ٹیبل ٹینس‘جوڈو‘کراٹے ‘تائیکوانڈو‘ریسلنگ ‘باسکٹ بال ‘جمناسٹک ‘ووشو اور ویٹ لفٹنگ میں شرکت کریں گے جبکہ 2624 خواتین کھلاڑی والی بال ‘نیٹ بال ‘ایتھلیٹکس‘رسہ کشی ‘بیڈمنٹن‘ ٹیبل ٹینس اور کرکٹ کے مقابلوں میں شرکت کریں گی تیسرے مرحلے میں ریجنل سطح پر مقابلے ہوں گے جس میں 2200 مرد و خواتین کھلاڑی شرکت کرہے ہیں جس میں چودہ گیمز مردوں کی اور دس خواتین کی ہونگی‘مردوں کی گیمز میں بیس بال ‘ہینڈ بال ‘ٹینس ‘آرچری ‘فٹسال‘ہینڈ بال‘سوئمنگ‘سائیکلنگ‘سنوکر‘فل کنٹیکٹ کراٹے‘باڈی بلڈنگ‘باکسنگ‘سکواش اور چک بال شامل ہیں جبکہ خواتین کی گیمز میں بیس بال ‘ہاکی ‘سکواش ‘ٹینس ‘آرچری ‘ووشو‘جوڈو ‘تائیکوانڈو ‘باسکٹ بال اور ہینڈ بال کے مقابلے شامل ہوں گے‘انہوں نے بتایا کہ انڈر23 گیمز میں معذور کھلاڑیوں کے لئے بھی ایونٹس شامل کئے گئے ہیں جس میں چھ ہزار کھلاڑی شرکت کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ چوتھی انڈر23 گیمز کے لئے 36.44 ملین روپے سالانہ رکھے گئے ہیں یہ دو سال کا پراجیکٹ ہے اور ہرسال کے لئے برابر کی رقم رکھی گئی ہے ‘انہوں نے کہا کہ مردوں کیساتھ ساتھ خواتین کو بھی کھیلوں کی بہترین سہولتیں فراہم کررہے ہیں ‘انہوں نے کہا کہ ہمارے کھلاڑیوں نے بے شمار کامیابیاں اپنے نام کیں جن میں سکواش کے حمام احمد نے یو ایس جونیئر سکواش چیمپئن شپ میں سلور میڈل جیتا‘حمزہ نیاز نے بھی چاندی کا تمغہ جیتا ‘128 ممالک کے مقابلوں میں یہ سکواش کے کھلاڑیوں کی بڑی کامیابی ہے اس کے علاوہ ٹیبل ٹینس‘جوڈو‘ٹینس‘کراٹے‘ہاکی اور تائیکوانڈو کے کھلاڑیوں نے انٹرنیشنل سطح پر میڈلز جیتے ‘ریسلنگ میں عنایت اللہ نے گولڈ میڈل جیتا‘نور زمان نے یو ایس اوپن کا سیمی فائنل کھیلا ‘ٹیبل ٹینس میں ایشین مقابلوں میں کائنات نے میڈل جیتا‘ٹیبل ٹینس میں امم خواجہ نے ایشین مقابلوں میں میڈل اپنے نام کیا ‘کراٹے میں اسماعیل نے انٹرنیشنل میڈل جیتا‘جوڈو میں حسین شاہ نے ورلڈ فیم ایوارڈ حاصل کیا ‘حامد اسرار اور حمزہ رومان نے میڈلز جیتے‘لائبہ احمد نے قائداعظم گیمز میں گولڈ میڈل جیتا جبکہ یو ایس اوپن سمیت دیگر مقابلوں میں بہترین کارکردگی دکھائی۔اس کے علاوہ بھی بے شمار کھلاڑی ہیں جنہوں نے مختلف گیمز میں صوبے کا نام روشن کیا۔

تعارف: عارف محمود خان

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*