بنیادی صفحہ / دیگر سپورٹس / پاکستان کرکٹ بورڈ میں آئے دن ایک نیا ڈراما

پاکستان کرکٹ بورڈ میں آئے دن ایک نیا ڈراما

اسلام آباد (عارف محمود خان، نمائندہ سپورٹس لائف) گزشتہ ہفتے پاکستان نے اپنے T20 ورلڈ کپ اسکواڈ کا اعلان کیا جس میں میرٹ کا قتل عام ہوا، ہر کوئی اسی بارے میں بات کر رہا تھا کہ پھر اچانک اس کے دو گھنٹے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بولنگ کوچ وقار یونس نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔

بات یہیں ختم نہیں ہوئی، پاکستان کرکٹ بورڈ کی نااہلی کے باعث پاکستان کی نیوزی لینڈ کے خلاف ہونے والی ونڈے سیریز میں ڈی آر ایس ٹیکنولوجی دستیاب نہیں ہوگی جس کے باعث انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے اس سیریز کو ODI Super League کا درجہ دینے سے انکا کر دیا ہے۔

خیر اسی اثنا میں جب نیوزی لینڈ کی ٹیم 18 سال بعد پاکستان پہنچی تو صحافی برادری کو اپنے ملک کا سافٹ امیج دنیا بھر میں اجاگر کرنے کا موقع مل گیا، مگر مقامی صحافیوں کا یہ خواب بھی پی سی بی کے نان پروفیشنل لوگوں کی بھینٹ چڑھ گیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے لوکل ادروں کے ساتھ اپنی صحافتی ذمہ داریاں سر انجام دینے والے افراد کو میڈیا ایکریڈیشن دینے سے انکار کر دیا۔ مقامی صحافیوں کو اسٹیڈیم تک رسائی حاصل نہ ہوگی جس کہ باعث وہ چا کر بھی اپنے ملک کا ریئل امیج دنیا کو نہیں دیکھا سکیں گے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے منتظمین سے اس بارے میں بات کی جائے تو ٹال مٹول کے علاؤہ ان کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آتا۔ ایسے میں مقامی صحافی اپنا لہو کس کے ہاتھ پر تلاش کریں۔

ایک دور تھا کہ جب پاکستان میں بھی صحافت کا احترام کیا جاتا تھا اور مختلف اداروں کے منتظمین بھی آمرانہ طاقتوں کا سامنا کرنے کو تیار رہتے تھے۔ لیکن جب سے یہ پیشہ کاروبار بنا ہے، تب سے صحافت اور صحافیوں کے ایام گردش میں ہیں۔

تعارف: عارف محمود خان

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*